حدیث نمبر: 14717
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: ح وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا ⦗٤٧٩⦘ أَبُو كُرَيْبٍ قَالَا: نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الْأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلَا مَمْلُوكٍ وَلَا شَيْءٍ غَيْرَ فَرَسِهِ، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ وَأَكْفِيهِ مُؤْنَتَهُ وَأَسُوسُهُ وَأَدُقُّ النَّوَى لَنَا ضُحَةً وَاسْتَقَى الْمَاءَ وَأَخْرِزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ فَكَانَ تَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ، قُلْتُ: وَكُنْتُ أَنْفِلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي وَهِيَ عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ قَالَتْ: فَجِئْتُ وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ: " أَخْ أَخْ "؛ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ، قَالَتْ: فَاسْتَحْيَتْ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَهُ قَالَتْ: قَالَ: " فَوَاللهِ لَحَمْلُكِ عَلَى رَأْسِكِ أَشَدُّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ " قَالَتْ: حَتَّى أَرْسَلَ إِلِيَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخَادِمٍ تكْفِينِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَنِي رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ

اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس زمین، مال اور غلام نہ تھے سوائے ایک گھوڑے کے۔ کہتی ہیں: میں گھوڑے کے لیے گھاس لاتی اور ان کے کام کرتی، گھوڑے کا خیال رکھتی اور اس کے لیے گٹھلیاں پیستی، پانی پلاتی اور مہمانوں کا خیال رکھتی، آٹا گوندھتی لیکن میں روٹی اچھی نہ پکا سکتی تھی۔ انصاری بچیاں مجھے روٹی پکا کر دیتی تھیں اور وہ سچی عورتیں تھیں۔ کہتی ہیں: میں زبیر رضی اللہ عنہ کی زمین سے اپنے سر پر دو تہائی فرسخ کے فاصلہ سے کھجور کی گٹھلیاں لے کر آتی تھی۔ فرماتی ہیں: میں گٹھلیاں لے کر آ رہی تھی کہ رسول اللہ ﷺ ملے، آپ ﷺ کے پاس صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت تھی تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”میرے پیچھے سوار ہو جاؤ۔“ کہتی ہیں: میں نے شرم محسوس کی اور آپ ﷺ کی غیرت کو پہچانا۔ آپ نے فرمایا: ”گٹھلیوں کو سر پر اٹھانا یہ سوار ہونے سے زیادہ مشکل ہے۔“ فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میرے پاس ایک خادم بھیج دیا جو میرے پاس گھوڑے کی دیکھ بھال سے کفایت کرتا تھا، گویا کہ انہوں نے مجھے آزاد کر دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14717
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»