السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما جاء في بيان حقه عليها باب: عورت پر شوہر کے حق کے بیان میں وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدِمَ الشَّامَ فَوَجَدَهُمْ يَسْجُدُونَ لِبَطَارِقَتِهِمْ وَأَسَاقِفَتِهِمْ فَرَوَى فِي نَفْسِهِ أَنْ يَفْعَلَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ سَجَدَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي دَخَلْتُ الشَّامَ فَوَجَدْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِبَطَارِقَتِهِمْ وَأَسَاقِفَتِهِمْ فَرَوَيْتُ فِي نَفْسِي أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ لَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا كُلَّهُ حَتَّى أَنْ لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى قَتَبٍ أَعْطَتْهُ " أَوْ قَالَ: لَمْ تَمْنَعْهُ.سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ شام آئے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگ اپنے پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں تو انہوں نے اپنے دل میں سوچا کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ ایسا ہی کریں گے، وہ واپس آکر نبی ﷺ کو سجدہ کرنے لگے تو آپ ﷺ نے انکار کر دیا، وہ کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! میں شام آیا تو وہاں کے لوگ اپنے پادریوں کو سجدہ کر رہے تھے تو میں نے دل میں سوچا کہ میں آپ کے ساتھ ایسا کروں گا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت سے کہتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عورت اتنی دیر اللہ کا بھی حق ادا نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہ کرے۔ اگر وہ اپنی ضرورت کا سوال کرے اور وہ پالان پر بھی ہو تب بھی اس کے پاس آئے“ یا فرمایا: ”اس کو نہ روکے۔“