السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب الدليل على أن السواك سنة ليس بواجب باب: اس دلیل کا بیان کہ مسواک سنت ہے واجب نہیں
حدیث نمبر: 147
وَقَدْ أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، فَذَكَرَهُ مَرْفُوعًا وَهَذَا الْحَدِيثُ مَعْرُوفٌ بِرَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ، وَبِشْرِ بْنِ عُمَرَ الزَّهْرَانِيِّ، عَنْ مَالِكٍ. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ مَرْفُوعًا، وَهُوَ فِي الْمُوَطَّأِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَوْقُوفٌ دُونَ ذِكْرِ الْوُضُوءِ.حافظ ثناء اللہ
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے اس روایت کو مرفوع بیان کیا ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے حرملہ والی روایت کو مرفوع ذکر کیا ہے اور امام مالک رحمہ اللہ نے مؤطا میں سند کے ساتھ موقوفاً بیان کیا ہے اور اس میں وضو کا ذکر نہیں ہے۔