السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ساقي القوم آخرهم باب: اس فرمانِ نبوی ﷺ کا بیان کہ ”قوم کو پلانے والا خود سب کے آخر میں پیے“۔
حدیث نمبر: 14669
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: نا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بَكْرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ النَّاسَ عَطَشٌ فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: يَا رَسُولَ اللهِ اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللهِ اشْرَبْ فَقَالَ: " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک سفر میں تھے، لوگوں کو پیاس لگی تو آپ ﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، تو نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کہہ رہے تھے: اے اللہ کے رسول ﷺ! پیئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قوم کو پلانے والا سب سے آخر میں پیتا ہے۔“