أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، نا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، نا أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ وَالطَّعَامُ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: " أَصْلِحُوا هَذِهِ الشَّاةَ وَانْظُرُوا إِلَى هَذَا الْخُبْزِ فَأَثْرِدُوا وَاغْرِفُوا عَلَيْهِ "، وَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ يُقَالُ لَهَا الْغَرَّاءُ يَحْمِلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا وَسَجَدُوا الضُّحَى أُتِيَ بِتِلْكَ الْقَصْعَةِ فَالْتَفُّوا عَلَيْهَا، فَلَمَّا كَثُرُوا جَثَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذِهِ؟ يَعْنِي الْجِلْسَةَ فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَصِيًّا كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا وَدَعُوا ذُرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا " ثُمَّ قَالَ: " خُذُوا كُلُوا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَيَفْتَحَنَّ عَلَيْكُمْ فَارِسَ وَالرُّومَ حَتَّى يَكْثُرَ الطَّعَامُ فَلَا يُذْكَرُ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ ".سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک بکری تحفہ میں دی گئی اور اس دن کھانا کم تھا، آپ ﷺ نے اپنے گھر والوں سے فرمایا: ”یہ بکری پکا کر روٹیوں کا ثرید بنا دو اور ان کے اوپر انڈیل دینا۔“ اور نبی ﷺ کا ایک پیالہ تھا جس کو «الْغَرَّاءُ» کہا جاتا تھا، اس کو چار آدمی اٹھاتے تھے، جب چاشت کا وقت ہوتا اور آپ ﷺ چاشت کی نماز پڑھ لیتے تو یہ پیالہ لایا جاتا تو لوگ اس کے ارد گرد دائرہ بنا لیتے۔ جب آدمیوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی تو نبی ﷺ گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے۔ ایک دیہاتی نے کہا: یہ کیسا بیٹھنا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے معزز بندہ بنایا ہے اور مجھے نافرمان و جابر نہیں بنایا۔“ پھر فرمایا: ”تم اس کے اطراف سے کھاؤ اور درمیان کو چھوڑ دو، اس میں برکت دی جائے گی۔“ پھر فرمایا: ”پکڑو اور کھاؤ، اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے، فارس اور روم فتح کیے جائیں گے، کھانا عام ہو گا لیکن اس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے گا۔“