السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما جاء في الأكل والشرب قائما باب: کھڑے ہو کر کھانے اور پینے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14647
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ ⦗٤٦١⦘ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ نا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِنَاءٍ فِي الرَّحَبَةِ فَشَرِبَ قَائِمًا قَالَ: وَكَانَ أُنَاسٌ يَكْرَهُ أَحَدُهُمْ أَنْ يَشْرَبَ قَائِمًا، وَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ، ثُمَّ أَخَذَ مِنَ الْمَاءِ قَالَ: فَأَرَاهُ قَالَ: مَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.حافظ ثناء اللہ
نزال بن سبرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کشادہ جگہ میں پانی کا برتن لایا گیا تو انہوں نے کھڑے ہو کر پانی پیا، حالانکہ لوگ کھڑے ہو کر پینے کو ناپسند کرتے تھے اور انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا جیسا کہ تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا۔“ پھر انہوں نے پانی لیا، (راوی کہتے ہیں کہ) میرا خیال ہے کہ آپ نے چہرے، پاؤں اور ہاتھوں کا مسح کیا، پھر فرمایا: ”یہ اس کا وضو ہے جو بے وضو نہیں ہوا۔“