السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: الأكل من جوانب القصعة دون وسطها باب: پیالے کے کناروں سے کھانے اور اس کے درمیان سے نہ کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14613
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، نا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَقَالَ: " كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس ثرید کی ایک پلیٹ لائی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے اطراف سے کھاؤ درمیان سے نہیں؛ کیونکہ برکت درمیان میں اترتی ہے۔“