السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الغسل من غسل الميت باب: میت کو غسل دینے کی وجہ سے غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1461
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ⦗٤٥٧⦘ مُعَلَّى، وَمَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَيْسَ عَلَيْكُمْ فِي غُسْلِ مَيِّتِكُمْ غُسْلٌ إِذَا غَسَّلْتُمُوهُ إِنَّ مَيِّتَكُمْ لَمُؤْمِنٌ طَاهِرٌ وَلَيْسَ بِنَجَسٍ فَحَسْبُكُمْ أَنْ تَغْسِلُوا أَيْدِيكُمْ " وَرُوِيَ هَذَا مَرْفُوعًا وَلَا يَصِحُّ رَفْعُهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”میت کو غسل دینے سے تم پر غسل واجب نہیں ہے، جب تم ان کو غسل دے چکو۔ تمہاری میت مومن پاک ہیں، ناپاک نہیں، تم کو کافی ہے کہ تم اپنے ہاتھوں کو دھوؤ۔“