السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: غسل اليد قبل الطعام وبعده باب: کھانے سے پہلے اور اس کے بعد ہاتھ دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14604
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، نا قَيْسٌ هُوَ ابْنُ الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: فِي التَّوْرَاةِ إِنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَبَعْدَهُ "، قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ غَيْرُ قَوِيٍّ وَلَمْ يَثْبُتْ فِي غَسْلِ الْيَدِ قَبْلَ الطَّعَامِ حَدِيثٌ.حافظ ثناء اللہ
زاذان سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ توراۃ میں موجود تھا کہ کھانے سے پہلے وضو کرنے میں برکت ہے۔ میں نے نبی ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کرنا برکت ہے۔“
قیس بن ربیع مضبوط راوی نہیں ہے، اس لیے کھانے سے پہلے ہاتھوں کا دھونا حدیث سے ثابت نہیں ہے۔