السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: نسخ الضيق في الأكل من مال الغير إذا أذن له فيه باب: دوسرے کے مال میں سے کھانے کی تنگی کے منسوخ ہونے کا بیان، جب وہ اسے اس کی اجازت دے دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا آدَمُ، نا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " كَانَ رِجَالٌ زَمْنَى عُمْيٌ وَعُرْجٌ أُولِي حَاجَةٍ يَسْتَتْبِعُهُمْ رِجَالٌ إِلَى بُيُوتِهِمْ فَإِنْ لَمْ يَجِدُوا لَهُمْ فِي بُيُوتِهِمْ طَعَامًا ذَهَبُوا بِهِمْ إِلَى بُيُوتِ آبَائِهِمْ وَبُيُوتِ أُمَّهَاتِهِمْ وَمَنْ عُدَّ مَعَهُمْ مِنَ الْبُيُوتِ، فَكَرِهَ ذَلِكَ الْمُسْتَتْبَعُونَ وَقَالُوا: يَذْهَبُونَ بِنَا إِلَى بُيُوتٍ غَيْرِ بُيُوتِهِمْ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: {لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ} [البقرة: ٢٣٦] فِي ذَلِكَ وَأَحَلَّ لَهُمُ الطَّعَامَ مِنْ حَيْثُ وَجَدُوهُ " قَالَ الشَّيْخُ: يَعْنِي إِذَا رَضِيَ بِهِ مَالِكُهُ وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ مَعَ رِضَا الْمَالِكِ بِهِ فَرُفِعَ الْحَرَجُ إِذَا كَانَ ذَلِكَ بِرِضَاهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ نابینا، لنگڑے اور ضرورت مند کسی کے پیچھے ان کے گھر تک جاتے۔ اگر وہ اشخاص اپنے گھروں میں ان کے لیے کھانا نہ پاتے تو ان کو اپنے والدین کے گھروں پر لے جاتے، جو انہوں نے اپنے گھروں کے ساتھ تعمیر کیے ہوتے تھے، تو پیچھے جانے والے اس کو برا خیال کرتے اور کہتے کہ وہ اپنے گھروں سے دوسرے گھروں کی طرف لے جاتے ہیں، تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿لَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ﴾ [سورة البقرة: 236] ”ان کے لیے کھانا حلال ہے جہاں بھی وہ پائیں۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مالک کی رضامندی کے باوجود حرج محسوس کرنا درست نہیں کیونکہ مالک کی رضا سے حرج ختم ہو چکا۔