حدیث نمبر: 14600
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: {لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ} [النساء: ٢٩] " فَكَانَ الرَّجُلُ يُحَرِّجَ أَنْ يَأْكُلَ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ بَعْدَمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَنَسَخَ ذَلِكَ الْآيَةُ الَّتِي فِي النُّورِ فَقَالَ: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ} إِلَى قَوْلِهِ {أَشْتَاتًا} [النور: ٦١] " كَذَا قَالَ يُرِيدُ قَوْلَهُ: {لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ، أَوْ بُيُوتِ خَالِاتِكُمْ، أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ، أَوْ صَدِيقِكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا} [النور: ٦١]، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ الْغَنِيُّ يَدْعُو الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِهِ إِلَى الطَّعَامِ قَالَ: إِنِّي لَا ⦗٤٤٩⦘ جُنَاحَ أَنْ آكُلَ مِنْهُ، قَالَ: وَالتَّجَنُّحُ الْحَرَجُ، وَيَقُولُ: الْمِسْكِينُ أَحَقُّ بِهِ مِنِّي فَأَحَلَّ فِي ذَلِكَ أَنْ يَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ وَأَحَلَّ طَعَامَ أَهْلِ الْكِتَابِ، وَذَكَرَ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ فِي قَوْلِهِ: {لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ} [النور: ٦١] الْآيَةَ، إِنَّ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا إِذَا غَزَوْا خَلَّفُوا زَمْنَاهُمْ فِي بُيُوتِهِمْ فَيَدْفَعُوا إِلَيْهِمْ مَفَاتِيحَ أَبْوَابِهِمْ وَيَقُولُوا قَدْ أَحْلَلْنَا لَكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِمَّا فِي بُيُوتِنَا فَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ مِنْ ذَلِكَ يَقُولُونَ: لَا نَدْخُلُهَا وَهُمْ غُيَّبٌ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ رُخْصَةً لَهُمْ. هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوْرٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ مُرْسَلًا. وَعَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ وَابْنِ الْمُسَيِّبِ مُرْسَلًا بِمَعْنَاهُ وَأَتَمَّ مِنْهُ..
حافظ ثناء اللہ

عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾ [سورة النساء: 29] ”تم اپنے مالوں کو آپس میں باطل طریقے سے نہ کھاؤ، مگر یہ کہ تم آپس میں رضامندی سے تجارت کرو۔“ اس آیت کے نزول کے بعد مرد کسی کے پاس کھانا کھانے میں حرج محسوس کرتے تھے تو سورہ النور والی آیت نے اس کو منسوخ کر دیا: ﴿لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ...﴾ [سورة النور: 61] الی قولہ ﴿أَشْتَاتًا﴾ [سورة النور: 61] ”اور تمہارے نفس پر بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں سے کھاؤ۔ الی قولہ یا متفرق۔“ اسی طرح اس قول سے بھی یہی مراد ہے: ﴿لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَلَا عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوتِ عَمَّاتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخْوَالِكُمْ أَوْ بُيُوتِ خَالَاتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَفَاتِحَهُ أَوْ صَدِيقِكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا﴾ [سورة النور: 61] ”نابینا انسان پر بھی تنگی نہیں اور نہ ہی لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور بیمار پر بھی کوئی تنگی نہیں ہے اور نہ ہی تمہیں آپس میں یہ کہ تم اپنے گھروں سے کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا جن کی چابیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوست کے گھر سے۔ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اکٹھے کھاؤ یا متفرق۔“ کہتے ہیں کہ غنی آدمی اپنے خاندان والے کسی غریب کو دعوت دیتا اور پھر اس کے ساتھ مل کر کھانے کو گناہ خیال کرتا اور مسکین کہتا کہ وہ مجھ سے زیادہ حق دار ہے، اور ان کے لیے وہ کھانا جائز رکھا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال رکھا۔
(ب) عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ﴿لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ﴾ [سورة النور: 61] ”جب مسلمان جہاد میں جاتے تو اپنے گھروں کی چابیاں دوسروں کو دے جاتے اور کہہ دیتے: جو ہمارے گھروں میں موجود ہے کھا لینا، لیکن وہ پھر بھی حرج محسوس کرتے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرما کر رخصت عنایت فرما دی۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14600
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»