السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الغسل من غسل الميت باب: میت کو غسل دینے کی وجہ سے غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1459
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ عَلَى مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا غُسْلٌ؟ فَقَالَ: " أَنْجَسْتُمْ صَاحِبَكُمْ، يَكْفِي مِنْهُ الْوُضُوءُ ".حافظ ثناء اللہ
عطاء سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا: کیا اس شخص پر غسل ہے جو میت کو غسل دے؟ انہوں نے کہا: کیا تمہارے ساتھی نے تم کو ناپاک کر دیا ہے؟ اس سے وضو ہی کافی ہے۔