السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: التشديد في المنع من التصوير باب: تصویر کشی کی ممانعت میں سختی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَكُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ، وَمَنْ تَحَلَّمَ كَاذِبًا عُذِّبَ وَكُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَيْسَ بِعَاقِدٍ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ سُفْيَانُ: الْآنُكُ الرَّصَاصُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ سُفْيَانَ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے تصویر بنائی اسے عذاب دیا جائے گا اور روح پھونکنے کا مکلف ٹھہرایا جائے گا لیکن وہ روح پھونک نہ سکے گا، اور جس نے جھوٹا خواب بیان کیا اس کو مکلف ٹھہرایا جائے گا کہ وہ دو جَو کے درمیان گرہ لگائے حالانکہ وہ گرہ نہ لگا سکے گا، اور جس نے کسی قوم کی بات کو سننا چاہا جس کو وہ سنانا ناپسند کرتے ہیں، کل قیامت کے دن اس کے کانوں میں شیشہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔“
(٣٨) «بَابُ الرُّخْصَةِ فِيمَا يُوطَأُ مِنَ الصُّوَرِ أَوْ يُقْطَعُ رُئُوسُهَا وَفِي صُوَرِ غَيْرِ ذَوَاتِ الْأَرْوَاحِ مِنَ الْأَشْجَارِ وَغَيْرِهَا» ”جس تصویر کو روندا جائے یا اس کے سر کو کاٹا جائے یا غیر ذی روح اشیاء کی تصاویر ہوں تو ان میں رخصت ہے۔“