السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: التشديد في المنع من التصوير باب: تصویر کشی کی ممانعت میں سختی کا بیان۔
حدیث نمبر: 14569
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا ⦗٤٣٩⦘ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُوَ يُفْتِي النَّاسَ لَا يُسْنِدُ شَيْئًا مِنْ فُتْيَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَإِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: ادْنُهُ ادْنُهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَدَنَا فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ "، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.حافظ ثناء اللہ
نضر بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، وہ لوگوں کو فتویٰ دیتے، لیکن اپنے فتویٰ کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف نہ کرتے۔ ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: میں عراقی ہوں اور تصاویر بنانے کا کام کرتا ہوں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: قریب ہوجاؤ، دو یا تین مرتبہ فرمایا، پھر کہنے لگے: میں نے محمد ﷺ سے سنا کہ ”جو اس دنیا میں تصاویر بناتا ہے، قیامت کے دن اس کو مکلف ٹھہرایا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے، لیکن وہ روح نہ پھونک سکے گا۔“