حدیث نمبر: 14565
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ بِهَا، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا صَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَدَعَاهُ فَقَالَ " أَفِي الْبَيْتِ صُورَةٌ؟ " قَالَ: نَعَمْ فَأَبَى أَنْ يَدْخُلَ حَتَّى كَسَرَ الصُّورَةَ ثُمَّ دَخَلَ ".
حافظ ثناء اللہ

حضرت خالد بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ کی کسی شخص نے کھانے کی دعوت پکائی تو سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا گھر میں تصاویر ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے گھر میں داخل ہونے سے انکار کر دیا جب تک تصاویر نہ توڑی گئیں، پھر وہ داخل ہوئے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14565
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»