السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: المدعو يرى في الموضع الذي يدعى فيه صورا منصوبة ذات أرواح فلا يدخل باب: اس مدعو کا بیان جو دعوت والی جگہ پر جانداروں کی نصب شدہ تصویریں دیکھے تو وہ اندر داخل نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جَمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ رَجُلًا ضَافَ ⦗٤٣٧⦘ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا فَدَعَوْهُ فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ فَرَأَى الْقِرَامَ قَدْ ضُرِبَ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَرَجَعَ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: الْحَقْهُ فَانْظُرْ مَا رَجَعَهُ، فَتَبِعْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا رَدَّكَ؟ فَقَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا ".ابو عبدالرحمن سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مہمان ٹھہرا، انہوں نے مہمان کے لیے کھانا پکایا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ کو بلا لو، وہ ہمارے ساتھ کھا لیں“، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو بلایا، آپ ﷺ گھر کی دہلیز پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہو گئے، پھر آپ ﷺ گھر کے ایک کونے میں لگے ہوئے پردے کو دیکھ کر پیچھے چلے گئے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی سے کہا: دیکھو آپ ﷺ واپس کیوں چلے گئے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں پیچھے چلا تو میں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کو کس چیز نے واپس کر دیا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے یا کسی نبی کے لائق نہیں کہ وہ کسی مزین گھر میں داخل ہو“۔