السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الغسل من غسل الميت باب: میت کو غسل دینے کی وجہ سے غسل کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُقَاتِلِ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَاتَ الشَّيْخُ الضَّالُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ وَكَفِّنْهُ " فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا؟ فَقَالَ: " وَمَنْ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْكَ، اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ وَكَفِّنْهُ وَجَنَّنْهُ وَلَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي " فَانْطَلَقْتُ فَفَعَلْتُ قَالَ: فَلَمَّا أَتَيْتُهُ قَالَ: " اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ غُسْلَ الْجَنَابَةِ " هَذَا غَلَطٌ وَالْمَشْهُورُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ نَاجِيَةَ عَنْ عَلِيٍّ كَمَا تَقَدَّمَ وَصَالِحُ بْنُ مُقَاتِلِ بْنِ صَالِحٍ يَرْوِي الْمَنَاكِيرَ وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ قَوْلِهِ.سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ابوطالب فوت ہوئے تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! گمراہ بوڑھا فوت ہو گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جا اس کو غسل دے اور کفن دے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھ سے زیادہ کون حق دار ہے؟ جا اس کو غسل دے اور کفن دے کر دفنا دے اور کسی سے کچھ بات نہ کرنا جب تک میرے پاس نہ آجاؤ۔“ میں چلا اور میں نے یہ کام کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب میں آپ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جا، جنابت والا غسل کر۔“
یہ غلط ہے، مشہور روایت ابو اسحاق عن ناجیہ عن علی ہے جیسا کہ گزر چکا، اور صالح بن مقاتل بن صالح منکر روایات بیان کرتا ہے۔