السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: من لم يدع ثم جاء فأكل لم يحل له ما أكل إلا بأن يحل له صاحب الوليمة باب: اس شخص کا بیان جسے دعوت نہ دی گئی ہو، پھر وہ آ کر کھا لے تو اس کے لیے وہ کھانا حلال نہیں ہے الا یہ کہ ولیمے والا (میزبان) اسے اس کے لیے حلال کر دے۔
حدیث نمبر: 14547
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِمْلَاءً وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ خَالِدٍ أَبُو زَكَرِيَّا، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دَخَلَ عَلَى قَوْمٍ لِطَعَامٍ لَمْ يُدْعَ إِلَيْهِ فَأَكَلَ دَخَلَ فَاسِقًا وَأَكَلَ مَا لَا يَحِلُّ لَهُ " وَقَدْ قِيلَ عَنْ بَقِيَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ عَنْ رَوْحٍ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ بِإِسْنَادَيْهِمَا لَمْ يَرْوِهِ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ غَيْرُ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ وَهُوَ مَجْهُولٌ مِنْ شُيُوخِ بَقِيَّةَ وَلِبَقِيَّةَ فِيهِ إِسْنَادٌ آخَرُ مَجْهُولٌ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كِفَايَةٌ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی قوم کے پاس کھانے کے لیے گیا حالانکہ اسے دعوت نہ تھی وہ فاسق داخل ہوا اور ایسا کھانا کھایا جو اس کے لیے جائز نہ تھا۔“
روح بن قاسم سے اسے یحییٰ بن خالد کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا، اور وہ بقیہ کے شیوخ میں سے مجہول ہے، اور بقیہ کی اس میں ایک اور سند بھی ہے جو مجہول ہے، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کافی ہے۔