السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الغسل من غسل الميت باب: میت کو غسل دینے کی وجہ سے غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1454
وَأَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ الْهَرَوِيُّ بِهَا حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدٌ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ زَادَ: حُمْرَ النَّعَمِ وَسُودَهَا وَكَانَ عَلِيٌّ إِذَا غَسَّلَ مَيِّتًا اغْتَسَلَ " تَفَرَّدَ بِهِ الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الْأَصَمُّ بِإِسْنَادِهِ هَذَا وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ أنبأ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَحَدِيثُهُ عَنِ السُّدِّيِّ لَيْسَ بِالْمَحْفُوظِ وَمَدَارُ هَذَا الْحَدِيثِ الْمَشْهُورِ عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ عَنْ عَلِيٍّ.حافظ ثناء اللہ
سعید نے اسی سند سے اسی طرح بیان کیا ہے اور یہ اضافہ کیا ہے کہ سرخ اونٹنیاں اور ان کی سیاہی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب میت کو غسل دیتے تو غسل کرتے تھے۔
اس سند کے ساتھ حسن بن یزید اصم اس روایت میں منفرد ہیں۔ ابن عدی کہتے ہیں: حسن بن یزید کوفی قوی نہیں اور سدی سے ان کی روایت محفوظ نہیں، اور اس مشہور حدیث کا دارومدار ابو اسحاق سبیعی پر ہے جو ناجیہ بن کعب سے اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔