حدیث نمبر: 14504
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَفَّانُ، وَأَبُو الْوَلِيدِ قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِهِ هَذَا أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أبي شَيْبَةَ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ فِي مَقْسَمِهِ، فَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ رَأَيْنَا السَّبْيَ فَمَا رَأَيْنَا امْرَأَةً ضَرْبَهَا، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَى بِهَا دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ مَا رَضِيَ، وَدَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ: " أَصْلِحِيهَا " فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ فَجَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ قَالَ: ثُمَّ ضَرَبَ الْقُبَّةَ عَلَيْهَا ثُمَّ أَصْبَحَ فَقَالَ: " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَأْتِنَا بِهِ " قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ وَفَضْلِ السَّوِيقِ وَفَضْلِ السَّمْنِ حَتَّى جَعَلُوا سَوَادَ حَيْسٍ فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ إِلَى جَنْبِهِمْ " قَالَ: وَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ، وَكَانَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْنَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً لَيْسَ فِيهَا خُبْزٌ وَلَا لَحْمٌ، ثُمَّ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی نبی ﷺ کے پاس بڑی مدح کی کہ ہم نے اس جیسی عورت اور قیدی کبھی نہیں دیکھی، تو نبی ﷺ نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو کچھ دے کر، جتنے پر وہ راضی ہوئے، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا اور فرمایا: ”اس کو تیار کرو۔“ رسول اللہ ﷺ نے خیبر سے کوچ کرتے ہوئے ان کو اپنے پیچھے سوار کیا، پھر آپ ﷺ کے لیے خیمہ لگایا گیا، پھر صبح کی تو فرمایا: ”جس کے پاس زاد راہ ہے وہ ہمارے پاس لے آئے۔“ تو کسی نے کھجور، ستو اور کسی نے گھی پیش کیا، تو انہوں نے بہت زیادہ حلوہ تیار کیا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کھانے کے بعد بارش کا پانی پیا۔ یہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے موقع پر نبی ﷺ کا ولیمہ تھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کا ولیمہ دیکھا جس میں روٹی اور گوشت نہ تھا۔ پھر انہوں نے یہ حدیث ذکر کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14504
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»