السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: الرجل يخلو بامرأته ثم يطلقها قبل المسيس باب: اس شخص کا بیان جو اپنی بیوی کے ساتھ خلوت کرے پھر ہم بستری سے پہلے ہی اسے طلاق دے دے۔
وَبِإِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا} [الأحزاب: ٤٩] " فَهَذَا الرَّجُلُ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا مِنْ قَبْلِ أَنْ يَمَسَّهَا فَإِذَا طَلَّقَهَا وَاحِدَةً بَانَتْ مِنْهُ وَلَا عِدَّةَ عَلَيْهَا تَزَوَّجُ مَنْ شَاءَتْ ثُمَّ قَالَ: {مَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا} يَقُولُ: إِنْ كَانَ سَمَّى لَهَا صَدَاقًا فَلَيْسَ لَهَا إِلَّا النِّصْفُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ سَمَّى لَهَا صَدَاقًا مَتَّعَهَا عَلَى قَدْرِ يُسْرِهِ وَعُسْرِهِ وَهُوَ السَّرَاحُ الْجَمِيلُ ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ کے اس قول: ﴿إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا﴾ [سورة الأحزاب: 49] ”جب تم مؤمنہ عورتوں سے نکاح کرو، پھر صحبت سے پہلے تم نے طلاق دے دی، پھر تمہارے اوپر کوئی دنوں کی گنتی نہیں ہے کہ تم اس کو شمار کرتے پھرو۔“ مرد عورت سے شادی کے بعد مجامعت سے پہلے طلاق دے دے تو پھر اس عورت پر عدت نہیں جس سے چاہے شادی کرلے، پھر فرمایا: ﴿فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا﴾ [سورة الأحزاب: 49] ”ان کو فائدہ دو اور اچھے طریقے سے چھوڑ دو۔“ اگر حق مہر مقرر کر رکھا ہے تو نصف ادا کرنا ہے، اگر حق مہر مقرر نہیں تو اپنی طاقت کے مطابق فائدہ دینا ہے، یہ ہے احسن انداز سے چھوڑنا۔