السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: المرأة تصلح أمرها للدخول بها باب: عورت کا خلوت کے لیے اپنی تیاری اور زیب و زینت کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا أَقْبَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ لِي قَطُوفٍ فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي فَنَخَّسَ بَعِيرِي بِعَنَزَةٍ كَانَتْ مَعَهُ فَانْطَلَقَ بَعِيرِي كَأَجْوَدِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ الْإِبِلِ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا يُعْجِلُكَ يَا جَابِرُ؟ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَقَالَ: " أَبِكْرًا تَزَوَّجْتَهَا أَمْ ثَيِّبًا؟ " فَقَالَ: بَلْ ثَيِّبٌ، قَالَ: " فَهَلَّا جَارِيَةٌ تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ؟ " قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ: " أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عِشَاءً كَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ "، قَالَ: وَقَالَ: " إِذَا قَدِمْتَ الْمَدِينَةَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ وَغَيْرُهُ عَنْ هُشَيْمٍ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے، جب ہم واپس پلٹے تو میں نے اپنے سست رفتار اونٹ کی طرف جلدی کی۔ پیچھے سے میرے اونٹ کو کسی سوار نے نیزے کے ذریعے کچوکا دیا تو میرا اونٹ ایسی چال چلا کہ میں نے کبھی کسی عمدہ اونٹ کو بھی ایسی چال چلتے نہ دیکھا تھا، میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”جابر! کیسی جلدی ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نئی نئی شادی کی ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟“ کہتے ہیں: میں نے کہا: بیوہ سے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی کہ تو اس سے کھیلتا اور وہ تجھ سے کھیلتی؟“ جب مدینہ آئے تو ہم نے گھروں میں داخل ہونے کا قصد کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ، عشاء کے وقت داخل ہونا تاکہ بکھرے بالوں والی کنگھی کر لے اور جس کا خاوند غائب (سفر پر) تھا وہ زیرِ ناف بال مونڈ لے“ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب جاؤ تو سمجھداری کا ثبوت دینا۔“