السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: المرأة تصلح أمرها للدخول بها باب: عورت کا خلوت کے لیے اپنی تیاری اور زیب و زینت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14470
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ نُوحُ بْنُ يَزِيدَ الْمُؤَدِّبُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " أَرَادَتْ أُمِّي أَنْ تُسَمِّنَنِي لِدُخُولِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: فَلَمْ أُقْبِلْ عَلَيْهَا بِشَيْءٍ مِمَّا تُرِيدُ حَتَّى أَطْعَمَتْنِي الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ فَسَمِنْتُ عَلَيْهِ كَأَحْسَنِ السِّمَنِ ".حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میری والدہ نے ارادہ کیا کہ وہ مجھے صحت مند کر کے رسول اللہ ﷺ کے ہاں داخل کر دیں، لیکن میں کسی چیز کو بھی قبول نہ کرتی تھی جس کا ان کا ارادہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ انہوں نے کھجور اور ککڑی ملا کر کھلائی تو اس سے میں کافی صحت مند ہو گئی۔