السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الغسل من غسل الميت باب: میت کو غسل دینے کی وجہ سے غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1443
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنِ عَطَاءٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ وَمَنْ حَمَلَ مَيِّتًا فَلْيَتَوَضَّأْ وَمَنْ مَشَى مَعَهَا فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يُقْضَى دَفْنُهَا " قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ كَمَا أَشَارَ إِلَيْهِ الْبُخَارِيُّ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جو شخص میت کو غسل دے تو وہ غسل کرے اور جو میت کو اٹھائے تو وہ وضو کرے اور جو اس کے ساتھ چلے وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک اس کو دفن نہ کر دیا جائے۔“ (ب) شیخ کہتے ہیں کہ یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً صحیح ثابت ہے جیسا کہ اس بات کی طرف امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اشارہ کیا ہے۔ یہی روایت ایک دوسری سند سے مرفوعاً بھی نقل کی گئی ہے۔