حدیث نمبر: 14405
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ} [البقرة: 236].
حافظ ثناء اللہ

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ﴾ ”تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو ایسی حالت میں طلاق دے دو کہ نہ تم نے انہیں ہاتھ لگایا ہو اور نہ ان کے لیے کوئی مہر مقرر کیا ہو، اور (اس صورت میں) انہیں کچھ سامان دو، خوشحال پر اس کی حیثیت کے مطابق اور تنگ دست پر اس کی حیثیت کے مطابق، دستور کے مطابق سامان دینا نیکی کرنے والوں پر لازم ہے۔“ [سورة البقرة: 236]

أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: " هُوَ الرَّجُلُ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا ثُمَّ طَلَّقَهَا مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْكِحَهَا فَأَمَرَ اللهُ تَعَالَى أَنْ يُمَتِّعْهَا عَلَى قَدْرِ يُسْرِهِ وَعُسْرِهِ فَإِنْ كَانَ مُوسِرًا مَتَّعَهَا بِخَادِمٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ وَإِنْ كَانَ مُعْسِرًا فَبِثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ شخص جو حقِ مہر مقرر کیے بغیر شادی کرتا ہے، پھر مجامعت سے پہلے طلاق دے دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تنگی اور آسانی کے مطابق فائدہ دینے کا حکم فرمایا ہے۔ اگر مالدار ہے تو خادم یا اس کے برابر فائدہ دے، اگر تنگدست ہے تو پھر تین کپڑے یا اس کے برابر دے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14405
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»