السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: النكاح على تعليم القرآن باب: قرآن مجید سکھانے پر (بطورِ مہر) نکاح کرنے کا بیان۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي رَوَاهُ عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَخْبَرَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ رَفِيَّ رَأْيَكَ، الْحَدِيثَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي لِلَّذِي يَخْطُبُهَا: " فَهَلْ تَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا؟ " قَالَ: نَعَمْ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَسُورَةَ الْمُفَصَّلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَنْكَحْتُهَا عَلَى أَنْ تُقْرِئَهَا وَتُعَلِّمَهَا وَإِذَا رَزَقَكَ اللهُ عَوَّضْتَهَا " فَتَزَوَّجَهَا الرَّجُلُ عَلَى ذَلِكَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْحَسَنِ ⦗٣٩٧⦘ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ ثنا عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ ثنا الْأَوْزَاعِيُّ فَذَكَرَهُ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: تَفَرَّدَ بِهِ عُتْبَةُ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ مَنْسُوبٌ إِلَى الْوَضْعِ وَهَذَا بَاطِلٌ لَا أَصْلَ لَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہا: میرے بارے میں اپنی رائے قائم کریں، تو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص سے کہا جس نے نکاح کے لیے کہا تھا: ”کیا تو نے قرآن سے کچھ پڑھا ہوا ہے؟“ اس نے کہا: سورۃ البقرہ اور سورۃ المفصل، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے کر دیا، لیکن قرآن کی تعلیم دے دینا اور جب اللہ تجھے رزق دے تو اس کے عوض بھی ادا کر دینا۔“ تو اس پر اس شخص نے شادی کر لی۔
ابو الحسن (دارقطنی) فرماتے ہیں: اسے بیان کرنے میں عتبہ منفرد ہے اور وہ متروک الحدیث ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عتبہ بن سکن کی طرف حدیث گھڑنے کی نسبت کی گئی ہے اور یہ روایت باطل ہے، اس کی کوئی اصل نہیں۔ واللہ اعلم۔