حدیث نمبر: 14332
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ}.
حافظ ثناء اللہ

اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ﴾ ”تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو اس وقت طلاق دے دو جب تم نے انہیں ہاتھ نہ لگایا ہو یا ان کے لیے کوئی مہر مقرر نہ کیا ہو، اور (اس صورت میں) انہیں کچھ سامان (متاع) دو۔“ [سورة البقرة: 236]

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَصْبَغِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: " أَتَرْضَى أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلَانَةَ؟ " قَالَ: نَعَمْ، وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ: " أَتَرْضَيْنَ أَنْ أُزَوِّجَكِ فُلَانًا؟ "، فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَزَوَّجَ أَحَدَهُمَا صَاحِبَهُ، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ، وَكَانَ مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَهُ سَهْمٌ بِخَيْبَرَ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّجَنِي فُلَانَةَ، وَلَمْ أَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، وَلَمْ أُعْطِهَا شَيْئًا، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَعْطَيْتُهَا صَدَاقَهَا سَهْمِي بِخَيْبَرَ، فَأَخَذَتْ سَهْمًا فَبَاعَتْهُ بِمِائَةِ أَلْفٍ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الصَّدَاقِ أَيْسَرُهُ "،.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: ”فلاں عورت سے آپ کی شادی کر دوں، آپ راضی ہیں؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ اور عورت سے پوچھا: ”فلاں مرد سے آپ کی شادی کر دوں، آپ راضی ہیں؟“ اس نے بھی کہہ دیا: ”ہاں۔“ تو ان کی شادی بغیر حق مہر اور بغیر کچھ دیے انجام پائی اور وہ شخص حدیبیہ میں حاضر ہوا تھا اور ان لوگوں کے لیے خیبر میں حصہ رکھا گیا تھا۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے کہا کہ فلاں عورت سے رسول اللہ ﷺ نے میری شادی بغیر حق مہر اور بغیر کچھ دیے کردی تھی اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا خیبر کا حصہ اس کو حق مہر میں دے دیا ہے، تو اس نے وہ حصہ لے کر ایک لاکھ میں فروخت کر دیا، راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین حق مہر وہ ہے جو آسان ہو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14332
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»