السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الغسل من غسل الميت باب: میت کو غسل دینے کی وجہ سے غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1432
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو وَقَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: " كُنَّا نَغْتَسِلُ مِنْ خَمْسٍ مِنَ الْجَنَابَةِ وَالْحِجَامَةِ وَنَتْفِ الْإِبْطِ وَمِنَ الْحَمَّامِ وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ " قَالَ: الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: مَا كَانُوا يَرَوْنَ غُسْلًا وَاجِبًا إِلَّا مِنَ الْجَنَابَةِ وَإِنْ كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يَغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم پانچ چیزوں سے غسل کرتے تھے: سینگی لگوانے سے، حمام سے، بغلوں کے بال اکھیڑنے سے، جنابت سے اور جمعہ کے دن سے۔
اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے کہا: وہ جنابت کے غسل کے علاوہ اس کو واجب خیال نہیں کرتے تھے اور جمعہ کے دن غسل کو مستحب سمجھتے تھے۔