السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: العزل باب: عزل (دورانِ ہم بستری انزال باہر کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 14315
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ قَالُوا: إِنَّ الْيَهُودَ تَزْعُمُ أَنَّ الْعَزْلَ هِيَ الْمَوْؤُدَةُ الصُّغْرَى قَالَ: " كَذَبَتِ الْيَهُودُ "، وَرُوِيَ فِي إِبَاحَةِ الْعَزْلِ عَنْ عَوَامِّ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عزل کے بارے میں پوچھا گیا اور صحابہ نے کہا کہ یہود اس کو چھوٹا زندہ درگور خیال کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہود جھوٹ بولتے ہیں“ اور عزل کے جواز میں عام صحابہ سے بھی روایات منقول ہیں۔