السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الزوجان يختلفان في الإصابة فيكون القول قوله إن كان ثيبا باب: اس بیان میں کہ میاں بیوی کے درمیان ہم بستری ہونے میں اختلاف ہو جائے، تو شوہر کی بات مانی جائے گی بشرطیکہ وہ (پہلے سے) شادی شدہ ہو۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّهَا تُرِيدُ فَسْخَ نِكَاحِهِ، وَعَلَيْهِ الْيَمِينُ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ وہ (عورت) اس کا نکاح فسخ کرانا چاہتی ہے، اور (اس صورت میں) قسم اس (شوہر) پر ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَعَلَيْهَا خِمَارٌ أَخْضَرُ فَشَكَتْ إِلَيْهَا زَوْجَهَا وَأَرَتْهَا ضَرْبًا بِجِلْدِهَا، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَقَالَتْ: مَا تَلْقَاهُ نِسَاءُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ أَزْوَاجِهِنَّ، وَقَالَتْ لَلَّذِي يَجْلِدُهَا أَشَدُّ خُضْرَةً مِنْ خِمَارِهَا قَالَ عِكْرِمَةُ: وَالنِّسَاءُ يَنْصُرُ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا، وَجَاءَ الرَّجُلُ فَقَالَتْ: مَا الَّذِي عِنْدَهُ بِأَغْنَى عَنِّي مِنْ هَذَا، وَقَالَتْ بِطَرَفِ ثَوْبِهَا فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ إِنِّي لَأَنْفُضُهَا نَفْضَ الْأَدِيمِ، وَلَكِنَّهَا نَاشِزٌ تُرِيدُ رِفَاعَةَ وَكَانَ رِفَاعَةُ زَوْجَهَا قَدْ طَلَّقَهَا قَبْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّهُ إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولِينَ لَمْ تَحِلِّي لَهُ حَتَّى يَذُوقَ مِنْ عُسَيْلَتِكِ وَتَذُوقِي مِنْ عُسَيْلَتِهِ ".عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، اس پر سبز اوڑھنی تھی۔ اس نے اپنے خاوند کی شکایت کی اور اپنی جلد پر مار کا نشان بھی دکھایا۔ جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کو بتایا اور کہنے لگیں کہ مسلمان عورتوں کو ان کے خاوندوں سے اتنی تکلیف آتی ہے اور فرمانے لگیں کہ اس کی جلد پر اس کی اوڑھنی سے بھی زیادہ سبز داغ تھے۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عورتیں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں اور جب مرد بھی آگیا تو عورت نے کہہ دیا کہ جو اس کے پاس ہے وہ مجھ سے بے پروا ہے (یعنی میری حاجت پوری نہیں کرتا) اور اپنے کپڑے کے سرے کو پکڑ کر کہنے لگی: اس طرح ہے اور مرد کہنے لگا: اللہ کی قسم! میں اس کو اس طرح چھانٹتا ہوں جیسے چمڑے کو چھانٹا جاتا ہے، لیکن یہ نافرمانی کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ رفاعہ کا ارادہ رکھتی ہے جس نے پہلے اس کو طلاق دے دی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر بات ایسے ہے تو پھر تیرے لیے جائز نہیں یہاں تک کہ تو اس کا مزہ چکھ لے اور وہ تیرا۔“