حدیث نمبر: 14129
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّقَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو الْقَعْقَاعِ قَالَ: شَهِدْتُ الْقَادِسِيَّةَ، وَأَنَا غُلَامٌ، أَوْ يَافِعٌ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ فَقَالَ آتِي امْرَأَتِي كَيْفَ شِئْتُ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: وَحَيْثُ شِئْتَ؟، قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: وَأَنَّى شِئْتُ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، فَفَطِنَ لَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ إِنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْتِيَهَا فِي مِقْعَدَتِهَا، فَقَالَ: " لَا مَحَاشُّ النِّسَاءِ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ".
حافظ ثناء اللہ

ابو قعقاع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں قادسیہ میں حاضر ہوا اور میں بچہ تھا یا یافع، تو ایک شخص سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں اپنی عورت کے پاس جیسے چاہوں آؤں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! اس نے کہا: جیسے چاہوں آؤں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اس نے کہا: جہاں سے چاہوں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، ایک شخص سمجھ گیا، اس نے کہا: اس کا ارادہ ہے کہ عورت کی دبر میں وطی کرے۔ انہوں نے فرمایا: نہیں، عورتوں کی دبر تم پر حرام ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14129
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»