❮
❯
حدیث نمبر: 14107
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِيُّ قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو الْأَصْبَغِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ وَلَهُمْ، إِنَّمَا كَانَ هَذَا الْحِيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَهُمْ أَهْلُ وَثَنٍ مَعَ هَذَا الْحِيِّ مِنْ يَهُودَ، وَهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ كَانُوا يَرَوْنَ لَهُمْ فَضْلًا عَلَيْهِمْ، فَكَانُوا يَقْتَدُونَ بِكَثِيرٍ مِنْ فِعْلِهِمْ، وَكَانَ مِنْ أَمْرِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَنْ لَا يَأْتُوا النِّسَاءَ، إِلَّا عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ، وَذَلِكَ أَسْتَرُ مَا تَكُونُ الْمَرْأَةُ، وَكَانَ هَذَا الْحِيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ أَخَذُوا بِذَلِكَ مِنْ فِعْلِهِمْ، وَكَانَ هَذَا الْحِيُّ مِنْ قُرَيْشٍ يَشْرَحُونَ النِّسَاءَ شَرْحًا مُنْكَرًا، وَيَتَلَذَّذُونَ مِنْهُنَّ مُقْبِلَاتٍ وَمُدْبِرَاتٍ وَمُسْتَلْقِيَاتٍ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنْهُمُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَذَهَبَ يَصْنَعُ بِهَا ذَلِكَ، فَأَنْكَرَتْ عَلَيْهِ وَقَالَتْ: إِنَّمَا كُنَّا نُؤْتَى عَلَى حَرْفٍ، فَاصْنَعْ ذَلِكَ وَإِلَّا فَاجْتَنِبْنِي حَتَّى شَرَى أَمْرُهُمَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: ٢٢٣] مُقْبِلَاتٍ وَمُدْبِرَاتٍ وَمُسْتَلْقِيَاتٍ يَعْنِي بِذَلِكَ مَوْضِعَ الْوَلَدِ، وَرَوَاهُ أَيْضًا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، سَمِعَ أَبَانَ بْنَ صَالِحٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ فِي الْفَرْجِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو وہم ہو گیا، اللہ انہیں معاف کرے، دراصل انصار کا یہ قبیلہ بت پرست تھا اور یہود کے اس قبیلے کے ساتھ رہتا تھا جو اہل کتاب تھے، انصار انہیں اپنے آپ سے افضل خیال کرتے تھے اور ان کے بہت سے افعال کی اقتدا کرتے تھے، اور اہل کتاب صرف ایک طریقے سے عورتوں سے مجامعت کرتے تھے اور اس میں عورت کا پردہ بھی زیادہ ہوتا ہے، انصار کے اس قبیلے نے ان کا یہ طریقہ اختیار کر لیا تھا، جبکہ قریش کا یہ قبیلہ عورتوں کو غیر معروف طریقے سے لٹاتا تھا، وہ ان عورتوں سے آگے، پیچھے، چت لٹا کر لذت حاصل کرتے تھے، جب مہاجرین مدینہ آئے تو ان میں سے ایک شخص نے ایک انصاری عورت سے شادی کی تو وہ اپنے طریقے سے مجامعت کرنے لگا تو عورت نے انکار کر دیا اور کہنے لگی: ”ہم سے صرف ایک ہی طریقہ سے مجامعت کی جاتی تھی، وہی اختیار کرو ورنہ مجھ سے اجتناب کرو۔“ یہاں تک کہ ان کا معاملہ بڑھ گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] یعنی آگے پیچھے سے یا چت لٹا کر، اس سے مراد صرف بچے کے پیدا ہونے کی جگہ ہے۔
(ب) ابان بن صالح نے بھی اس کے ہم معنیٰ ذکر کیا ہے کہ ”شرمگاہ میں ہونا چاہیے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14107
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ اخرجه الحاكم 3060»