السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما يكره من ذكر الرجل إصابته أهله باب: انسان کا اپنی بیوی سے ہم بستری کی باتیں لوگوں کے سامنے بیان کرنے کی کراہت و ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنَ الطُّفَاوَةِ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَدِينَةِ، فَلَمْ أَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ تَشْمِيرًا، وَلَا أَقْوَمَ عَلَى ضَيْفٍ مِنْهُ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: نَهَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ حَتَّى أَتَى مَقَامَهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ قَالَ: وَخَلْفَهُ صَفَّانِ مِنْ رِجَالٍ، وَصَفٌّ مِنْ نِسَاءٍ، أَوْ صَفَّانِ مِنْ نِسَاءٍ، وَصَفٌّ مِنْ رِجَالٍ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " إِنْ نَسَّانِيَ الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي، فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ، وَلْتُصَفِّقِ النِّسَاءُ "، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَنْسَ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ فَقَالَ: " مَجَالِسَكُمْ مَجَالِسَكُمْ مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ يَسْتَتِرُ بِسِتْرِ اللهِ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَغْلَقَ عَلَيْهِ بَابَهُ، وَأَلْقَى عَلَيْهِ سِتْرَهُ "، قَالُوا: إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ: " ثُمَّ يَجْلِسُ، فَيَقُولُ: فَعَلْتُ بِصَاحِبَتِي كَذَا وَفَعَلْتُ كَذَا "، فَسَكَتُوا، فَقَالَ: " هَلْ مِنْكُنَّ مَنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ؟ " قَالَ: فَسَكَتْنَ، فَجَثَتْ فَتَاةٌ أَحْسَبُهُ قَالَ: كَعَابٌ عَلَى إِحْدَى رُكْبَتَيْهَا، فَتَطَاوَلَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَرَاهَا، فَقَالَتْ: إِي وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُمْ لَيَتَحَدَّثُونَ وَإِنَّهُنَّ لَيَتَحَدَّثْنَ، فَقَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَا مَثَلُ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ؟ مَثَلُ الشَّيْطَانِ وَالشَّيْطَانَةِ لَقِيَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فِي سِكَّةٍ، فَقَضَى مِنْهَا حَاجَتَهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، وَقَالَ: أَلَا لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَى رَجُلٍ، وَلَا امْرَأَةٌ إِلَى امْرَأَةٍ، إِلَّا إِلَى وَلَدٍ أَوْ وَالِدٍ "، وَقَالَ الثَّالِثَةُ، فَنَسِيتُهَا، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ طِيبَ الرِّجَالِ مَا وُجِدَ رِيحُهُ وَلَمْ يَظْهَرْ لَوْنُهُ، أَلَا إِنَّ طِيبَ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَلَمْ يُوجَدْ رِيحُهُ ".طفاوت کے ایک بزرگ فرماتے ہیں: میں مدینہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے کسی شخص کو ان سے زیادہ تیز چلتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی ان سے بڑھ کر کوئی مہمان نواز تھا۔ وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ میں اس جگہ آیا جہاں آپ ﷺ نماز پڑھتے تھے۔ فرماتے ہیں: آپ ﷺ کے ساتھ دو صفیں مردوں کی اور ایک صف عورتوں کی تھی یا دو صفیں عورتوں کی اور ایک صف مردوں کی تھی۔ نماز کے بعد آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اگر شیطان مجھے نماز میں کچھ بھلا دے تو مرد «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”سبحان اللہ“ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔“ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی لیکن آپ ﷺ بھولے نہیں، پھر فرمایا: ”اپنی جگہ رہنا، کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے کہ جب وہ اپنی بیوی کے پاس آئے تو دروازہ بند کر لے اور پردہ ڈال لے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ بیٹھے رہے، پھر فرمایا: ”کیا کوئی ہے جو کہے کہ میں نے اپنی بیوی سے یوں یوں کیا؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم خاموش رہے۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی عورت نے یہ کیا؟“ راوی کہتے ہیں: عورتیں بھی خاموش رہیں۔ ایک نوجوان بچی دو زانوں ہو کر بیٹھ گئی، میں گمان کرتا ہوں کہ اس کے پستان گھٹنوں پر تھے، اس نے خود کو نمایاں کیا تاکہ رسول اللہ ﷺ اس کو دیکھ لیں، اس نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول ﷺ! مرد بھی یہ بیان کرتے ہیں اور عورتیں بھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو جس نے ایسا کیا وہ اس شیطان اور شیطاننی کی مانند ہیں جو کسی گلی میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور اپنی حاجت پوری کرتے ہیں حالانکہ لوگ انھیں دیکھ رہے ہوں۔“ اور فرمایا: ”کوئی مرد مرد کے ساتھ اور کوئی عورت عورت کے ساتھ نہ لیٹے، صرف بچے یا والد کے ساتھ اجازت ہے۔“
اور راوی کہتے ہیں: میں تیسری چیز بھول گیا، (آپ ﷺ نے فرمایا:) ”مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی بو ہو اور رنگ ظاہر نہ ہو، اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبو موجود نہ ہو۔“