السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: نكاح أهل الشرك وطلاقهم باب: مشرکین کے نکاح اور ان کی طلاق کا بیان۔
حدیث نمبر: 14077
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ} [التوبة: ١٢٨] قَالَ: لَمْ يُصِبْهُ شَيْءٌ مِنْ وِلَادَةِ الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ: وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجْتُ مِنْ نِكَاحٍ غَيْرِ سِفَاحٍ "، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَبَوَاهُ كَانَا مُشْرِكَيْنِ بِدَلِيلِ.حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم﴾ [سورة التوبة: 128] ”تمہارے پاس تمہارے ہی نفسوں سے رسول آئے، ان پر شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت زیادہ حریص ہیں“ کے متعلق کہتے ہیں کہ جاہلیت کی پیدائش سے کوئی چیز حاصل نہیں ہوئی اور نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری پیدائش نکاح سے ہوئی، زنا سے نہیں۔“