السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الدلالة على أن الغسل يوم الجمعة سنة اختيار باب: اس دلیل کا بیان کہ جمعہ کے دن کا غسل ایک اختیاری سنت ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ جَاءُوا فَقَالُوا: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَتَرَى الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبًا قَالَ: " لَا، وَلَكِنَّهُ أَطْهَرُ وَخَيْرٌ لِمَنِ اغْتَسَلَ وَمَنْ لَمْ يَغْتَسِلْ فَلَيْسَ عَلَيْهِ بِوَاجِبٍ " وَسَأَخْبِرُكُمْ كَيْفَ بَدَأَ الْغُسْلُ كَانَ النَّاسُ مَجْهُودِينَ يَلْبَسُونَ الصُّوفَ وَيَعْمَلُونَ عَلَى ظُهُورِهِمْ وَكَانَ مَسْجِدُهُمْ ضَيِّقًا مُقَارِبَ السَّقْفِ إِنَّمَا هُوَ عَرِيشٌ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَعَرِقَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ الصُّوفِ حَتَّى ثَارَتْ مِنْهُمْ رِيَاحٌ آذَى بِذَلِكَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَلَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الرِّيحَ قَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمُ فَاغْتَسِلُوا وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ أَفْضَلَ مَا يَجِدُ مِنْ دُهْنِهِ وَطِيبِهِ " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ثُمَّ جَاءَ اللهُ بِالْخَيْرِ وَلَبِسُوا غَيْرَ الصُّوفِ وَكُفُوا الْعَمَلَ وَوُسِّعَ مَسْجِدُهُمْ وَذَهَبَ بَعْضُ الَّذِي كَانَ يُؤْذِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا مِنَ الْعَرَقِ ".سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عراق کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے: اے ابن عباس (رضی اللہ عنہما)! آپ کا کیا خیال ہے، کیا جمعہ کے دن غسل واجب ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن بہتر ہے اس شخص کے لیے جس نے غسل کیا اور جس نے غسل نہ کیا اس پر واجب نہیں ہے۔ میں عنقریب آپ کو بتاؤں گا کہ غسل کی ابتدا کیسے ہوئی؟ لوگ کام کرتے تھے اور اون کے کپڑے پہنتے تھے اور اپنی کمروں پر کام کرتے تھے، مسجد تنگ چھتوں والی ہوتی تھی، وہ صرف (کھجوروں وغیرہ کے) پتے ہوتے تھے، رسول اللہ ﷺ گرم دن میں نکلے، اور لوگوں کو اون کے کپڑوں میں پسینہ آیا ہوا تھا، ان سے (مسجد میں) بدبو پھیلی جس سے بعض لوگوں کو تکلیف ہوئی، جب رسول اللہ ﷺ نے بدبو کو محسوس کیا تو آپ نے فرمایا: ”اے لوگو! جب جمعہ کا دن ہو تو غسل کرو اور تم میں سے کسی کے پاس تیل اور خوشبو ہو تو اس کو لگائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ نے وسعت عطا کی تو انہوں نے اون کے کپڑے پہننا چھوڑ دیے اور کام کرنے سے رک گئے اور ان کی مسجدیں وسیع ہو گئیں اور پسینوں کی وجہ سے جو تکلیف ہوتی تھی وہ دور ہو گئی۔