حدیث نمبر: 14012
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لِأَنَّهَا دَاخِلَةٌ فِي مَعْنَى مَنْ حُرِّمَ مِنَ الْمُشْرِكَاتِ وَغَيْرِ حَلَالٍ مَنْصُوصَةٍ بِالْإِحْلَالِ كَمَا نَصَّ حَرَائِرَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِي النِّكَاحِ، وَاللهُ تَعَالَى إِنَّمَا أَحَلَّ ⦗287⦘ نِكَاحَ إِمَاءِ أَهْلِ الْإِسْلَامِ بِمَعْنَيَيْنِ وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى تَحْرِيمِ مَنْ خَالَفَهُنَّ مِنْ إِمَاءِ الْمُشْرِكِينَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، لِأَنَّ الْإِسْلَامَ شَرْطٌ ثَالِثٌ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیونکہ وہ (مشرک لونڈی) ان مشرک عورتوں کے مفہوم میں داخل ہے جنہیں حرام کیا گیا ہے، اور وہ حلال نہیں ہے اور نہ ہی اس کی حلت پر نص وارد ہوئی ہے، جیسا کہ نکاح کے بارے میں اہلِ کتاب کی آزاد عورتوں (کی حلت) پر نص وارد ہوئی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اہلِ اسلام کی لونڈیوں سے نکاح کو صرف دو شرطوں کے ساتھ حلال فرمایا ہے، اور اس میں ان کے برعکس مشرکین کی لونڈیوں کی حرمت کی دلیل ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے، کیونکہ اسلام (یہاں) تیسری شرط ہے۔“

أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " لَا يَصْلُحُ نِكَاحُ إِمَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ".
حافظ ثناء اللہ

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب کی لونڈیوں سے نکاح درست نہیں؛ کیونکہ اللہ کا فرمان ہے: ﴿مِنْ فَتَیٰتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ﴾ [سورة النساء: 25] ”یعنی مومنہ لونڈیوں سے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14012
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 619»