السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الزنا لا يحرم الحلال باب: اس بیان میں کہ زنا کسی حلال چیز کو حرام نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 13967
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي أَخِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَفْسُدُ حَلَالٌ بِحَرَامٍ، وَمَنْ أَتَى امْرَأَةً فُجُورًا، فَلَا عَلَيْهِ أن يتَزَوَّجَ أُمَّهَا أَوِ ابْنَتَهَا، فَأَمَّا نِكَاحٌ فَلَا "، تَفَرَّدَ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيُّ هَذَا، وَهُوَ ضَعِيفٌ قَالَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ مِنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ، وَالصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلًا مَوْقُوفًا عَنْهُ، وَعِنْدَ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ، حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ الْعُمَرِيِّ أَمْثَلُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ”حرام کی وجہ سے حلال فاسد نہیں ہوجاتا اور جس شخص نے کسی عورت سے زنا کیا اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ اس کی والدہ یا اس کی بیٹی سے شادی کرے، رہا نکاح تو یہ جائز نہیں ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں یہ عثمان بن عبدالرحمن وقاصی منفرد ہے اور یہ ضعیف ہے، یہ بات یحییٰ بن معین اور دیگر ائمہ حدیث نے کہی ہے، اور صحیح یہ ہے کہ یہ ابن شہاب زہری سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول مرسل موقوف ہے، اور بعض علماء کے نزدیک عبداللہ عمری کی حدیث بہتر ہے۔ واللہ اعلم۔