السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الزنا لا يحرم الحلال باب: اس بیان میں کہ زنا کسی حلال چیز کو حرام نہیں کرتا۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا حَرَّمَهُ لِحُرْمَةِ الْحَلَالِ، وَالْحَرَامُ خِلَافُ الْحَلَالِ " قَالَ: وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَوْلُنَا.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ اللہ عزوجل نے اسے صرف حلال (تعلق) کی حرمت کی وجہ سے حرام کیا ہے، اور حرام (تعلق) حلال کے برعکس ہے۔“
انہوں نے فرمایا: ”اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہمارے قول کے مطابق روایت کیا گیا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: " فِي رَجُلٍ زَنَى بِأُمِّ امْرَأَتِهِ، أَوْ بِابْنَتِهَا، فَإِنَّهُمَا حُرْمَتَانِ تَخَطَّاهُمَا، وَلَا يُحَرِّمُهَا ذَلِكَ عَلَيْهِ " قَالَ: وَقَالَ يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ: مَا حَرَّمَ حَرَامٌ حَلَالًا قَطُّ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الشَّعْبِيَّ، فَقَالَ: بَلْ لَوْ أَخَذْتَ كُوزًا مِنْ خَمْرٍ، فَسَكَبْتَهُ فِي جُبٍّ مِنْ مَاءٍ لَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ حَرَامًا، وَكَانَ مِنْ رَأْيِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْهِ.یحییٰ بن یعمر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی والدہ یا اس کی بیٹی سے زنا کیا تو اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہوگی۔ یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ حرام حلال کو حرام نہ کرے گا۔ یہ بات شعبی رحمہ اللہ تک پہنچی تو کہنے لگے: اگر میں شراب کا ایک پیالہ لے کر جوس میں ڈال دوں تو یہ جوس یا پانی حرام ہوگا، شعبی کی یہ رائے تھی کہ یہ اس پر حرام ہے۔