السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في قول الله تعالى: وأن تجمعوا بين الأختين باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور (یہ بھی حرام کیا گیا ہے) کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ (نکاح میں) جمع کرو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ لِي " قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَوَاللهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟ " قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " فَوَاللهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي؛ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، " فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ.سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بہن ابوسفیان کی بیٹی سے شادی کر لیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اس بات کو پسند کرتی ہے؟“ کہتی ہیں: ہاں، میں آپ کے لیے بخل کرنے والی نہیں ہوں اور مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میری بہن میری بھلائی میں شریک ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔“ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمیں تو معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنتِ ام سلمہ؟“ کہنے لگی: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری گود میں پرورش پانے والی نہ ہوتی تب بھی میرے لیے حلال نہ تھی؛ کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے؛ کیونکہ مجھے اور ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا، تو میرے اوپر اپنی بیٹیاں اور بہنیں پیش نہ کیا کرو۔“