السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا عدة على الزانية ومن تزوج امرأة حبلى من زنا لم يفسخ النكاح باب: اس بیان میں کہ زانی عورت پر کوئی عدت نہیں ہے اور جو شخص زنا سے حاملہ عورت سے نکاح کر لے تو اس کا نکاح فسخ نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 13891
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُمَرِيُّ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا بِسْطَامُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الْمُخْتَارِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ بَصْرَةَ بْنِ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً بِكْرًا، فَدَخَلَ بِهَا، فَوَجَدَهَا حُبْلَى، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: " إِذَا وَضَعَتْ فَاجْلِدُوهَا الْحَدَّ "، وَجَعَلَ لَهَا صَدَاقَهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْأَسْلَمِيِّ وَهُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا. ⦗٢٥٥⦘.حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ، بصرہ بن ابی بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک کنواری عورت سے شادی کی۔ جب وہ اس کے پاس گئے تو اسے حاملہ پایا۔ انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے دونوں میں تفریق ڈلوا دی اور فرمایا: ”جب وہ وضع حمل کرے تو کوڑے لگانا اور اس کی شرمگاہ کو حلال سمجھنے کی وجہ سے اس کا حق مہر رکھا۔“