السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في تسري العبد باب: غلام کے لونڈی رکھنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ قَالَ: زَوَّجَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَبْدًا لَهُ وَلِيدَةً لَهُ، فَطَلَّقَهَا، فَقَالَ: " ارْجِعْ فَأَبَى " قَالَ: فَقَالَ: " هِيَ لَكَ طَأْهَا بِمِلْكِ يَمِينِكَ "، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْجَدِيدِ: وَابْنُ عَبَّاسٍ، إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِعَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ طَلَاقٌ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا، فَأَبَى، فَقَالَ: فَهِيَ لَكَ فَاسْتَحِلَّهَا بِمِلْكِ الْيَمِينِ، يُرِيدُ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ بِالنِّكَاحِ وَلَا طَلَاقَ لَهُ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ كَمَا قَالَ.ابو معبد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کی شادی لونڈی سے کردی تو اس نے طلاق دے دی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رجوع کرو“، اس نے انکار کردیا۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ تیری ملکیت ہے تو اس سے مجامعت کر“، ان کی مراد یہ تھی کہ یہ نکاح کی وجہ سے حلال ہوگئی ہے اور طلاق کا اختیار نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ اپنے جدید قول میں فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے کہا، جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی کہ ”تیری طلاق نہیں، اپنی بیوی کو روکے رکھ۔“ تو اس نے انکار کردیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا مقصد یہ تھا کہ یہ تیرے لیے نکاح کی وجہ سے حلال ہے، اس پر طلاق نہیں ہے۔