السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في تسري العبد باب: غلام کے لونڈی رکھنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13854
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ: " لَا يَطَأُ الرَّجُلُ وَلِيدَةً، إِلَّا وَلِيدَةً إِنْ شَاءَ بَاعَهَا، وَإِنْ شَاءَ وَهَبَهَا، وَإِنْ شَاءَ صَنَعَ بِهَا مَا شَاءَ "، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ مَنَعَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ الْعَبْدَ مِنَ التَّسَرِّي فِي الْجَدِيدِ وَعَارَضَ الْأَثَرَ الْأَوَّلَ بِهَذَا، وَهَذَا إِنَّمَا قَالَهُ ابْنُ عُمَرَ فِي الْحُرِّ، إِذَا اشْتَرَى وَلِيدَةً، بِشَرْطٍ فَاسِدٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت نافع رحمہ اللہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی مرد لونڈی سے مجامعت نہ کرے، لیکن اس کو فروخت یا ہبہ کرنا چاہے یا پھر اس کے ساتھ جو بھی سلوک کرے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے جدید قول میں غلام کی لونڈی سے شادی کی ممانعت ہے اور پہلے اثر کو پیش کرتے ہیں، حالانکہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس آزاد شخص کے بارے میں فرماتے ہیں، جو لونڈی فاسد شرط کے ذریعے خریدتا ہے۔