السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب ما يحل من الحرائر، ولا يتسرى العبد وغير ذلك -- باب: عدد ما يحل من الحرائر والإماء باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں ان آزاد عورتوں کا بیان ہے جو حلال ہیں، اور یہ کہ غلام لونڈی نہیں رکھ سکتا، اور دیگر متعلقہ امور کا بیان ہے۔ -- باب: آزاد عورتوں اور لونڈیوں کی اس تعداد کا بیان جو حلال ہے۔
حدیث نمبر: 13849
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ زَيْنَبَ، أَنَّ أُمَّ سَعِيدٍ أُمَّ وَلَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عنه حَدَّثَتْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَصُبُّ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَاءَ، وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: يَا أُمَّ سَعِيدٍ " قَدِ اشْتَقْتُ أَنْ أَكُونَ عَرُوسًا " قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَيْحَكَ مَا يَمْنَعُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: " أَبَعْدَ أَرْبَعٍ؟ " قَالَتْ: فَقُلْتُ: تُطَلِّقُ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ وَتَزَوَّجْ أُخْرَى قَالَ: " إِنَّ الطَّلَاقَ قَبِيحٌ أَكْرَهُهُ ".حافظ ثناء اللہ
ام سعید رضی اللہ عنہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ام ولد تھیں، وہ فرماتی ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وضو کروا رہی تھی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔ ام سعید کہتی ہیں: میں نے کہا: اے امیر المومنین! کس چیز نے آپ کو روک رکھا ہے؟ فرمانے لگے: کیا چار کے بعد بھی؟ کہتی ہیں: میں نے کہا: ایک کو طلاق دیں اور کسی دوسری سے شادی کر لیں۔ فرمانے لگے: طلاق بری چیز ہے، میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔