السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب ما يحل من الحرائر، ولا يتسرى العبد وغير ذلك -- باب: عدد ما يحل من الحرائر والإماء باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں ان آزاد عورتوں کا بیان ہے جو حلال ہیں، اور یہ کہ غلام لونڈی نہیں رکھ سکتا، اور دیگر متعلقہ امور کا بیان ہے۔ -- باب: آزاد عورتوں اور لونڈیوں کی اس تعداد کا بیان جو حلال ہے۔
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ} [الأحزاب: 50]، وَقَالَ: {فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: 3] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَأَطْلَقَ اللهُ مَا مَلَكَتِ الْأَيْمَانُ فَلَمْ يَحُدَّ فِيهِنَّ حَدًّا يُنْتَهَى إِلَيْهِ وَانْتَهَى مَا أَحَلَّ اللهُ بِالنِّكَاحِ إِلَى أَرْبَعٍ " قَالَ الشَّيْخُ: وَيُذْكَرُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ: {مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ} [النساء: 3] يَعْنِي مَثْنَى أَوْ ثُلَاثَ أَوْ رُبَاعَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَدَلَّتْ سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُبَيِّنَةُ عَنِ اللهِ أَنَّ انْتِهَاءَهُ إِلَى أَرْبَعٍ تَحْرِيمًا مِنْهُ لِأَنْ يَجْمَعَ أَحَدٌ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعٍ.اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ﴾ ”یقیناً ہم جانتے ہیں جو ہم نے ان (مومنوں) پر ان کی بیویوں اور ان کی لونڈیوں کے بارے میں فرض کیا ہے۔“ [سورة الأحزاب: 50]
اور فرمایا: ﴿فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ ”تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین اور چار چار، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو ایک ہی (سے نکاح کرو) یا جو تمہاری لونڈیاں ہوں۔“ [سورة النساء: 3]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں (کے معاملے) کو مطلق رکھا اور ان میں کوئی ایسی حد مقرر نہیں فرمائی جس پر رکا جائے، اور جو (عورتیں) اللہ نے نکاح کے ذریعے حلال کی ہیں ان کی انتہا چار تک رکھی۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور علی بن حسین (امام زین العابدین) رحمہ اللہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾ ”دو دو، تین تین اور چار چار۔“ [سورة النساء: 3] کے بارے میں فرمایا: یعنی دو یا تین یا چار۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور رسول اللہ ﷺ کی سنت نے، جو اللہ تعالیٰ کی مراد کو واضح کرنے والی ہے، اس بات پر دلالت کی کہ اس (تعداد) کا چار تک محدود ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی حرمت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سوا کوئی شخص چار سے زیادہ (بیویوں) کو (بیک وقت اپنے نکاح میں) جمع کرے۔“
فَذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا كَانَ يُقَالُ لَهُ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ الثَّقَفِيُّ كَانَ تَحْتَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَأَسْلَمَ وَأَسْلَمْنَ مَعَهُ، فَأَمَرَهُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ " يَتَخَيَّرَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا ".سیدنا سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص جس کو غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا دورِ جاہلیت میں اس کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، جب وہ مسلمان ہوئے تو وہ عورتیں بھی مسلمان ہو گئیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے چار کا انتخاب کر لے۔“