السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في نكاح اليتيمة تكون في حجر وليها، فيرغب في نكاحها باب: اس یتیم بچی کے نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور وہ (ولی) اس سے نکاح کرنے کی رغبت رکھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ هُوَ الْحَافِظُ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْجَهْمِ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِي، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ} [النساء: ١٢٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَتْ: " هِيَ الْيَتِيمَةُ فِي حِجْرِ الرَّجُلِ قَدْ شَرِكَتْهُ فِي مَالِهِ، فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، وَيَرْغَبُ أَنْ يُزَوِّجَهَا، فَيَدْخُلُ عَلَيْهِ فِي مَالِهَا، فَيَحْبِسُهَا، فَنَهَاهُمُ اللهُ عَنْ ذَلِكَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ هِشَامٍ، وَاخْتُلِفَ فِي لَفْظِهِ عَلَى هِشَامٍ، وَحَدِيثُ الزُّهْرِيِّ أَكْمَلُ وَأَحْفَظُ وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ﴾ [سورة النساء: 127] ”وہ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے: اللہ تم کو ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے“ کے بارے میں فرماتی ہیں کہ ایک یتیم بچی کسی آدمی کی پرورش میں تھی، وہ بچی اس کے مال میں شریک تھی، لیکن وہ مرد اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی کسی دوسرے سے اس کا نکاح کرنا چاہتا تھا کہ وہ اس کے مال میں اس کا شریک بن جائے گا، اس لیے اس کو روکے رکھتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا۔
ہشام سے اس کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے اور زہری کی حدیث زیادہ مکمل اور زیادہ محفوظ ہے، واللہ اعلم۔