السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في نكاح اليتيمة تكون في حجر وليها، فيرغب في نكاحها باب: اس یتیم بچی کے نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور وہ (ولی) اس سے نکاح کرنے کی رغبت رکھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى، فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: ٣] قَالَتْ: " يَا ابْنَ أُخْتِي هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حِجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ، فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا، فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا، فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ، فَنُهُوا عَنْ أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ، إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ، وَيُبَلِّغُوهُنَّ أَعْلَى سِنَّهُنَّ مِنَ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ. قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ فِيهِنَّ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ} [النساء: ١٢٧] قَالَ: وَالَّذِي ذُكِرَ أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْهِمْ فِي الْكِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَى الَّتِي قَالَ فِيهَا: {وَإِنْ خِفْتُمْ ⦗٢٣٠⦘ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: ٣] قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى: {وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ} [النساء: ١٢٧]، رَغْبَةَ أَحَدِكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِي تَكُونُ فِي حِجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ، إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے اس قول ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ﴾ [سورة النساء: 3] ”اگر تم ڈرو کہ تم یتیم عورتوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان سے نکاح کرو جو تمہیں اچھی لگیں۔“ کے بارے میں پوچھا تو فرمانے لگیں: اے بھتیجے! یہ یتیم بچیاں اپنے ولیوں کی پرورش میں ہوتی تھیں، ان کا مال مشترک ہوتا تھا۔ وہ اس کے مال و جمال کو تو پسند کرتے ہوئے اس سے نکاح کرنا چاہتے، لیکن دوسری عورتوں کی طرح ان کو حق مہر نہ دیتے اور بے انصافی کرتے تو انہیں منع کر دیا گیا کہ ان یتیم بچیوں سے نکاح کریں، لیکن اگر وہ انصاف کریں اور بہتر حق مہر ادا کریں تو نکاح کر سکتے ہیں، وگرنہ ان کے علاوہ جو عورتیں ان کو پسند ہوں ان سے شادی کر لیں۔ عروہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھنا شروع کر دیا۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل کر دی ﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ ۖ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ﴾ [سورة النساء: 127] ”اور فتویٰ پوچھتے ہیں آپ سے عورتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے! اللہ تمہیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتے ہیں اور یتیم بچیوں کے بارے میں جو کتاب میں تمہارے اوپر تلاوت کیا جاتا ہے جن کو تم ان کا مقرر کردہ (حق مہر) بھی نہیں دیتے اور ان سے نکاح کی رغبت رکھتے ہو۔“ راوی ذکر کرتے ہیں کہ جو پہلی آیت میں ذکر کیا گیا جو اس سے پہلے ہے، یعنی ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ﴾ [سورة النساء: 3] حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا: ﴿وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ﴾ [سورة النساء: 127] جب تم ایسی یتیم بچی جس کا مال و جمال کم ہو، اس سے نکاح کی رغبت نہیں رکھتے تو پھر ایسی یتیم بچی جس کے مال و جمال کی وجہ سے نکاح میں رغبت رکھتے ہو اگر انصاف کرو تو درست ہے وگرنہ ان سے نکاح کرنا ممنوع ہے۔