السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في تفسير العضل الآخر الذي نهى الله سبحانه وتعالى عنه باب: اس دوسری قسم کے عضل (نکاح سے روکنے) کی تفسیر کے بیان میں جس سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا} [النساء: ١٩] قَالَ: " كَانَ إِذَا تُوُفِّيَ الرَّجُلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَمَدَ حَمِيمُ الْمَيِّتِ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَأَلْقَى عَلَيْهَا ثَوْبًا، فَيَرِثُ نِكَاحَهَا، فَيَكُونُ هُوَ أَحَقُّ بِهَا مِنْ غَيْرِهِ، فَأَنْزَلَ اللهُ هَذِهِ الْآيَةَ، وَقَوْلُهُ: {وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ} [النساء: ١٩] مِنَ الْمَهْرِ، فَهُوَ الرَّجُلُ يَعْضِلُ امْرَأَتَهُ، فَيَحْبِسُهَا وَلَا حَاجَةَ لَهُ فِيهَا إِرَادَةَ أَنْ تَفْتَدِيَ مِنْهُ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ} [النساء: ١٩]، يَقُولُ: وَلَا تَحْبِسُوهُنَّ {لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ} [النساء: ١٩] يَعْنِي: مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ {إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [النساء: ١٩]، يَعْنِي الْعِصْيَانَ الْبَيِّنَ وَهُوَ النُّشُوزُ، فَقَدْ أَحَلَّ اللهُ الضَّرْبَ وَالْهُجْرَانَ، فَإِنْ أَبَتْ حَلَّتْ لَهُ الْفِدْيَةُ "، وَتَمَامُ هَذَا الْبَابِ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِ الْقَسَمِ حَيْثُ نَقَلْنَا كَلَامَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ.مقاتل بن حبان رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا﴾ [سورة النساء: 19] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بنو۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں: جب جاہلیت میں آدمی فوت ہو جاتا تو میت کے ورثاء اس کی بیوی پر کپڑا ڈال کر اس کے نکاح کے وارث بن جاتے تو وہ اس کے نکاح کے زیادہ حق دار ہوتے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ﴾ [سورة النساء: 19] ”اور مت روکو ان کو تاکہ لے لو تم وہ چیز جو تم نے ان کو دی ہے“ یعنی حق مہر۔ مرد عورت کو روکتا حالانکہ اس کو اس کی کوئی ضرورت نہ ہوتی صرف فدیہ کا ارادہ رکھتا، یہ اللہ تعالیٰ کا قول «وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ» ”تم مت روکو ان کو۔“ وہ کہتے کہ تم مت منع کرو یا مت روکو۔ «لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ» ”یعنی جو تم نے ان کو عطا کر دیا۔“ ﴿إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة النساء: 19] ”یعنی واضح نافرمانی۔“ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مارنے اور چھوڑنے کی اجازت دی ہے، اگر وہ انکار کرے تو پھر فدیہ بھی جائز ہے۔