حدیث نمبر: 13774
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ، وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ، فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: " انْكِحِي أُسَامَةَ "، فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا، وَاغْتَبَطْتُ بِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے اپنی عدم موجودگی میں طلاقِ بتہ دے دی۔ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا۔ جب میں حلال ہو گئی (یعنی عدت پوری ہو گئی) تو میں نے نبی ﷺ سے تذکرہ کیا کہ سیدنا معاویہ اور سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہما نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابو جہم اپنے کندھے سے عصا نہیں اتارتا (یعنی وہ ہاتھ مارتا ہے یا سفروں میں رہتا ہے) اور معاویہ فقیر آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں ہے، آپ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیں۔“ وہ کہتی ہیں: میں نے اس کو ناپسند کیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسامہ سے نکاح کر لو۔“ میں نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں برکت ڈال دی اور مجھ پر رشک کیا جاتا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13774
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1480»