السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: اعتبار السلامة في الكفاءة باب: کفاءت میں (جسمانی و ذہنی) سلامتی کا اعتبار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 13772
أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، نا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْجُذَانِيُّ، نا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ فِرَارَكَ مِنَ الْأَسَدِ "، أَوْ قَالَ: " مِنَ الْأُسُودِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ عَفَّانُ: ثنا سُلَيْمٌ، فَذَكَرَهُ، وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ " وَذَلِكَ مَعَ مَا نَسْتَدِلُّ بِهِ فِي رَدِّ النِّكَاحِ بِالْعُيُوبِ الْخَمْسَةِ إِنْ شَاءَ اللهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی، ہامہ (میت کے سر سے الو نکل کر دہائی دیتا ہے، انتقام لینے تک صبر سے نہیں بیٹھتا، یہ جاہلیت میں کہا کرتے تھے) اور نہ ہی صفر کی کوئی حقیقت ہے، اور کوڑھی سے اس طرح بھاگ جیسے شیر سے بھاگا جاتا ہے“ یا اسود کے لفظ ذکر کیے ہیں۔
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تندرست انسان کے پاس بیمار کو نہ رکھا جائے۔“ یہ حدیث وہاں آئے گی جہاں پانچ عیوب کی وجہ سے نکاح کو رد کیے جانے پر ہم استدلال کریں گے۔