السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الابن يزوجها إذا كان عصبة لها بغير البنوة باب: اس بیان میں کہ بیٹا اس عورت کا نکاح کروا سکتا ہے جب وہ بیٹے کے رشتے کے علاوہ کسی اور جہت سے اس کا عصبہ (ولی) بنتا ہو۔
حدیث نمبر: 13754
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَ: " مُرِي ابْنَكِ أَنْ يُزَوِّجَكِ، أَوْ قَالَ: زَوَّجَهَا ابْنُهَا وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صَغِيرٌ لَمْ يَبْلُغْ "، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَابِ النِّكَاحِ مَا لَمْ يَكُنْ لِغَيْرِهِ.حافظ ثناء اللہ
سلمہ بن عبداللہ بن سلمہ بن ابی سلمہ اپنے والد سے اور وہ دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے بیٹے کو حکم دے کہ وہ تیرا نکاح کر دے“ یا فرمایا: ”اس کے بیٹے نے نکاح کر دیا“ وہ ابھی بالغ بھی نہ ہوئے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: نکاح کے معاملے میں نبی ﷺ کو وہ (خصوصیات) حاصل تھیں جو آپ کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہ تھیں۔